ست[2]
معنی
١ - زور، بل، بوتا، شکتی، طاقت۔ "مگر نہ جانے میرے ہاتھوں میں مست کیوں نہ رہا۔" ( ١٩٦٦ء، دو ہاتھ، ٣٢ ) ٢ - عرق، رس، نچوڑ۔ "ایک صاف نلی میں . اس ہرے ست کی کچھ مقدار ڈالو۔" ( ١٩٣٨ء، عملی نباتیات، ٨٧ ) ٣ - خمیر "انسان کو مٹی کے ست سے بنایا، پھر ہم ہی نے اس کو حفاظت کی جگہ یعنی عورت کے رحم میں نطفہ بنا کر رکھا۔" ( ١٨٩٥ء، ترجمہ قرآن مجید، نذیر احمد، ٤٩٠ ) ٤ - مٹی، زمین کی خاصیت۔ "یہ ایک قسم کی مٹی ہے جو اسی مٹی کے ست اور آکسیجن جزو ہوا کے ترکیب پانے سے پھر بن جاتی ہے۔" ( ١٨٦٥ء، رسالہ علم فلاحت، ١٢ ) ٥ - جوہر، لب لباب، نچوڑ، خلاصہ، اصل مطلب۔ "جو کتاب بھی پڑھتے اس کا ست یا جوہر نکال لیتے۔" ( ١٩٥٤ء، اکبرنامہ، ١٧٤ ) ٦ - جذبہ، جوش۔ "دیکھو رسم کا ست تو مار چکا تھا محبت کا ست کام کر گیا۔" ( ١٨٨٣ء، دربارِ اکبری، ٧٨٥ ) ٧ - خیر و برکت، فراغت۔ یہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئی پھر جتنی گھر میں ست تھی اسی گھر کے در گئی ( ١٨٣٠ء، نظیر، کلیات، ٢، ١٦:١ ) ٨ - روح، جوہر حیات۔ "حق ہے کہ برہ کہ پیڑ جس کے تن کو لگے وہ سوکھ جائے اور اس کے ست سوکھ جائیں۔" ( ١٨٠١ء، مادھونل اور کام کندلا، ٤٧ )
اشتقاق
اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٠٨ء سے "داستان فتح جنگ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - زور، بل، بوتا، شکتی، طاقت۔ "مگر نہ جانے میرے ہاتھوں میں مست کیوں نہ رہا۔" ( ١٩٦٦ء، دو ہاتھ، ٣٢ ) ٢ - عرق، رس، نچوڑ۔ "ایک صاف نلی میں . اس ہرے ست کی کچھ مقدار ڈالو۔" ( ١٩٣٨ء، عملی نباتیات، ٨٧ ) ٣ - خمیر "انسان کو مٹی کے ست سے بنایا، پھر ہم ہی نے اس کو حفاظت کی جگہ یعنی عورت کے رحم میں نطفہ بنا کر رکھا۔" ( ١٨٩٥ء، ترجمہ قرآن مجید، نذیر احمد، ٤٩٠ ) ٤ - مٹی، زمین کی خاصیت۔ "یہ ایک قسم کی مٹی ہے جو اسی مٹی کے ست اور آکسیجن جزو ہوا کے ترکیب پانے سے پھر بن جاتی ہے۔" ( ١٨٦٥ء، رسالہ علم فلاحت، ١٢ ) ٥ - جوہر، لب لباب، نچوڑ، خلاصہ، اصل مطلب۔ "جو کتاب بھی پڑھتے اس کا ست یا جوہر نکال لیتے۔" ( ١٩٥٤ء، اکبرنامہ، ١٧٤ ) ٦ - جذبہ، جوش۔ "دیکھو رسم کا ست تو مار چکا تھا محبت کا ست کام کر گیا۔" ( ١٨٨٣ء، دربارِ اکبری، ٧٨٥ ) ٨ - روح، جوہر حیات۔ "حق ہے کہ برہ کہ پیڑ جس کے تن کو لگے وہ سوکھ جائے اور اس کے ست سوکھ جائیں۔" ( ١٨٠١ء، مادھونل اور کام کندلا، ٤٧ )